ابنا: یوم مسلح افواج کی مرکزی تقریب بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کے مزار پر منعقد ہوئي۔ صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے اس تقریب سے خطاب میں ایران کی مسلح افواج کو دنیا کی خود مختار مسلح افواج کےلئے نمونہ عمل قراردیا۔ صدرجناب احمدی نژاد نے کہا کہ کسی بھی قوم کو اپنی آزادی اور قومی سلامتی نیز اپنی ترقی وسربلندی کے عمل کے تحفظ کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی طاقت کا اہم سرچشمہ ملت کی حمایت اور ایمان ہے اور ایران کی مسلح افواج خود اعتمادی کے سہارے اور دنیا کی کھوکھلی طاقتوں سے مرعوب ہوئے بغیر آج حقیقی طاقت تک پہنچ چکی ہیں اور انہوں نے جدید ترین فوجی علوم و ٹکنالوجی حاصل کرلی ہے۔ ایران کی مسلح افواج نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اور دفاع مقدس کے تجربوں پر بھروسہ کرتے ہوئے دیگر ملکوں کے ساتھ وابستگي ختم کی اور خود دفاعی ساز و سامان بنانے لگيں۔ اس کے بعد اس نے ٹریننگ اور فوجی تعلیم میں بھی خود کفالت حاصل کرلی اورآج اس کا شمار دنیا کی ترقی یافتہ افواج میں ہونے لگا ہے۔ ایران کی مسلح افواج کی ترقی دفاعی ڈاکٹرائين اور ڈیٹیرینٹ اصول پر انجام پارہی ہے۔ ایران کی دفاعی ڈاکٹرائين کی بنیاد اخلاقی اور دینی اصولوں کی پابندی پر رکھی گئي ہے اور اسی اساس پر اس ڈاکٹرائين میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے لئے کوئي جگہ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی دفاع اور سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقے کے ممالک بالخصوص ہمسایہ ملکوں کے تعاون پر بھی زور دیتا ہے۔ علاقے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے پیش نطر علاقائي ملکوں کا باہمی تعاون ضروری ہوجاتا ہے بالخصوص موجودہ حالات میں جبکہ بیرونی طاقتیں علاقے میں بدامنی کا بنیادی سبب ہیں۔ ان حقائق کے پیش نظر ایران کی دفاعی اسٹراٹیجی جامع اور علاقے کی سلامتی پر استوار ہے اسکے علاوہ دفاعی صنعتوں میں ایران کی ترقی کے پیش نظر علاقائي سطح پر وسیع پیمانے پر دفاعی تعاون کے راستے کھلےہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے سائنس دانوں کی توانائیوں سے سائنس و ٹنکنالوجی کے میدانوں میں بے پناہ ترقی کی ہے اور عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران مشترکہ تعاون کے دائرے میں ہمسایہ ملکوں کو اپنی ترقی میں شریک کرنے کو تیار ہے۔ یوم مسلح افواج کی مرکزی تقریب میں فوج نے اپنی دفاعی کامیابیوں کی نمائش کی جس میں زمین سے فضا میں مارکرنے والے میزائيل اور راڈار پر نہ آنے والا جدید ترین ڈرون طیارہ، بھی شامل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت مختلف ملکوں کے ساتھ دفاعی تعاون کررہا ہے اور اس نے خلیج فارس کے ملکوں کو مشترکہ دفاعی تعاون کی پیشکش کی ہے۔ اسی وجہ سے آج کی تقریب میں صدر جناب احمدی نژاد نے کہا ہےکہ ساری قوموں کےلئے ایران کی مسلح افواج اور قوم کا پیغام ہے کہ آئين مل کر عالمی سطح پر حقیقی معنی میں امن و صلح کی طرف قدم بڑھائيں اور انصاف و محبت و دوستی اور باہمی احترام سے اس راستے کو طے کریں۔
.....
/169